گیس کی لوڈشیڈنگ

گیس عنقا ہے چوب پر ہے بسر
اس لئے ہر مکاں سے اُٹھتا ہے

بسکہ اہلِ وطن سے مت پوچھیں
یہ دہواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

 

Posted in تازہ گنڈیریاں | Leave a comment

کیا بات ہے

اُن کے طرزِ عمل پر کوئی کیا کہے
روزہ رکھنے کی توفیق نہ ہو سکی
اور افطار میں سب سے آگے رہے

Posted in مزاحیکو | Leave a comment

مس نازلی

روزہ رکھنے کی ہمت میسر سہی
دیدۂ شوق رہنے نہ دے گا کبھی
روز بن ٹھن کے آتی ہے مس نازلی

Posted in مزاحیکو | Leave a comment

عدلیہ سے

چھپکلی پر ہاتھ ڈالا ہے بڑا اچھا کیا
دیکھنا ہے کیا مگرمچھ کو پکڑ پائیں گے آپ

چور کو پکڑا ہے لیکن بات تب بن پائے گی
چور کی ماں کو بھی کوئی ہاتھ دکھلائیں گے آپ

Posted in تازہ گنڈیریاں | Leave a comment

مژدہ

مرحبا کوئی تو پاکستان میں
ارتقا کی سیڑھیوں پر چڑھ گیا

آپ ہم بیکار ہیں تو کیا ہوا
گورگن کا کام خاصا بڑھ گیا

Posted in تازہ گنڈیریاں | Leave a comment

پھر آج نیواں نیواںسوئے سس گیا توپھنس گیا

پھر آج نیواں نیواںسوئے سس گیا توپھنس گیا
میری طرح جب بھی گیا، بے بس گیا، تو پھنس گیا

کل اس نے شرماتے ہوئے ، دیکھا مجھے جاتے ہوئے
کل کاتب شامت مجھے بھی دس گیا، تو پھنس گیا

اس شوخ میں ہے کیا فسوں ، سو جان سے مرتا ہے کیوں؟
پاؤں ترا کن دلدوں میں دھنس گیا، تو پھنس گیا

سارے ہی تاڑو تن گئے، کڑیوں کے بھائی بن گئے
آواز جانے کون تھا جو کس گیا، تو پھنس گیا

چمکی جو تیری لیڈری بنگلے ملے کوٹھی ملی
لیکن یہاں سے جب بھی یہ سرکس گیا، تو پھنس گیا

چونکہ چنانچہ سے ارے، ٹلتا ہے کب ظالم سمے
ڈنڈا جو لہرایا تو پیش و پس گیا، تو پھنس گیا

پٹرول بھی مہنگا ہوا، ہر سمت سے ٹھینگا ہوا
گھر کے بجٹ کا تو نکل بھرکس گیا، تو پھنس گیا

یہ ازدواجی پیشیاں نہ مار دیں تجھ کو میاں
مارِ گرانی آن کر یوں ڈس گیا، تو پھنس گیا

افسر کی نکتہ دانیاں دفتر کے سب پیر و جواں
چپ چاپ سنتے تھے مگر تو ہنس گیا، تو پھنس گیا

وقتِ نکاح کہنے لگے، قلقاریاں بھرتے ہوئے
سارے رقیب رو سیاہ تو پھنس گیا  تو پھنس گیا

پڑھنے لگا تیرا ظفر ، کلیات ساری کھول کر
حاضر تھا جو بزم سخن سے نس گیا، تو پھنس گیا

Posted in ظفرانیات | 1 Comment

مشاہدہ

ماہرِ نفسیات نے پوچھا
یہ بتائیں کہ آپ کا بیٹا

اپنے ماحول میں کہیں خود کو
غیر محفوظ تو نہیں لگتا

اِس پہ خاتون نے کہا یہ تو
میں نہیں جانتی ہاں البتہ

میرا اپنا مشاہدہ یہ ہے
جہاں موجود ہو مرا بیٹا

وہاں موجود دوسرے بچے
کبھی محفوظ رہ نہیں سکتے

Posted in لطیفوں پر منظوم چھاپے | Leave a comment